جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا
سارے رسالہ دار تباہی میں پڑ گئےاب منہ کسے دکھائیں کہ چہرے بگڑ گئےنامی جو تھے جواں قدم ان کے اکھڑ گئےبھاگے جو سب نشاں بھی خجالت سے گڑ گئےعلموں کے پاس ڈھیرے پھریروں کے رن میں تھےریتی پہ بیرقیں تھیں کہ مردے کفن میں تھے
About this couplet
This is couplet 124 of 156 in “جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۲۴ / ۱۵۶