جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا
خشکی میں تھی جو آپ تو آتش تری میں تھیہم نام ذوالفقار علی صفدری میں تھیتلوار تھی کہ برق لباس پری میں تھیبے باک اس لیے تھی کہ دستِ جری میں تھیخوں بھی اسے حلال دیت بھی معاف تھیکاٹا تھا سو گلوں کو مگر پاک صاف تھی
About this couplet
This is couplet 123 of 156 in “جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۲۳ / ۱۵۶