جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا

گھیرے تھے ایک جان کو دو لاکھ اہلِ شہرٹھہرے کہاں قرار کہاں لیں تھمیں کدھرچھاتی کے پاس برچھیاں تیغیں قریبِ سرپہلو میں اس طرف تو سنائیں ادھر تبرملتی نہ تھی اماں سپہ تیرہ بخت سےگوشوں سے تیر چلتے تھے پتھر درخت سے

About this couplet

This is couplet 126 of 156 in “⁨جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۲۶ / ۱۵۶