جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا
جب مشک کی طرف کوئی آتا تھا سن سے تیرکہتے تھے یا حفیظ کبھی گاہ یا قدیرچلا رہا تھا شمر جفا پیشہ و شریرجانے نہ پائے لختِ دلِ شاہ قلعہ گیررخ اس جری کا خیمہ کی جانب سے موڑ دوہاں برچھیوں سے شیر کے سینہ کو توڑ دو
About this couplet
This is couplet 127 of 156 in “جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۲۷ / ۱۵۶