جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا

جب روکتا ہوں میں انہیں اے آسماں سریرکہتے ہیں کیوں امام کی جانب لگائے تیرباندھے ہے سر کشی پہ کمر لشکرِ شریرہنگام جنگ شیر کے بچے ہوں گوشہ گیرکس قہر کی نظر سے لعینوں کو تکتے ہیںبچوں کو ہے یہ غیظ کہ آنسو ٹپکتے ہیں

About this couplet

This is couplet 32 of 156 in “⁨جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۲ / ۱۵۶