جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا
اک اک جری کو تشنہ جرأت کا جوش ہےعالم ہے بے خودی کا پہ مرنے کا ہوش ہےہر صف میں یا علی ولی کا خروش ہےکہتے ہیں بار بار کہ سر بارِ دوش ہےمشتاق ہیں وہ پیاس میں تیغوں کے گھاٹ کےڈر ہے کہ مر نہ جائیں گلے کاٹ کاٹ کے
About this couplet
This is couplet 33 of 156 in “جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۳۳ / ۱۵۶