جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے

غصے تھا شیرِ شہ زۂ صحرائے کربلاچھوڑے تھا گرگ منزل و ماوائے کربلاتیغ علی تھی معرکہ آرائے کربلاخالی نہ تھی سروں سے کہیں جائے کربلابستی بسی تھی مردوں کے قریے اجاڑ تھےلاشوں کی تھی زمین سروں کے پیاز تھے

About this couplet

This is couplet 148 of 193 in “⁨جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۴۸ / ۱۹۳