جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
غازی نے رکھ لیا تھا جو شمشیر کے تلےتھی طرفہ کشمکش فلک پیر کے تلےچلے سمٹ کے جاتے تھے رہ گیر کے تلےچھپتی تھی سر جھکا کے کماں تیر کے تلےاس تیغِ بے دریغ کا جلوہ کہاں نہ تھاسہمے تھے سب پہ گوشۃ امن و اماں نہ تھا
About this couplet
This is couplet 149 of 193 in “جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۴۹ / ۱۹۳