جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے

سقے پکارتے تھے یہ مشکیں لیے ادھربازارِ جنگ گرم ہے ڈھلتی ہے دوپہرپیسا جو ہو وہ پانی سے ٹھنڈا کرے جگرمشکوں پہ دور دور کے گرتے تھے اہلِ شرکیا آگ لگ گئی تھی جہانِ خراب کوپیتے تھے سب حسین تڑپتے تھے آب کو

About this couplet

This is couplet 151 of 193 in “⁨جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۵۱ / ۱۹۳