جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے

گرمی میں پیاس تھی کہ پھینکا جاتا تھا جگراف کبھی کہا کبھی چہرے پہ لی سپرآنکھوں میں ٹیس اٹھی جو پڑی دھوپ پر نظرجھپٹے کبھی ادھر کبھی حملہ کیا ادھرکثرت عرق کے قطروں کی تھی روئے پاک پرموتی برستے جاتے تھے مقتل کی خاک پر

About this couplet

This is couplet 152 of 193 in “⁨جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۵۲ / ۱۹۳