جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
کھنچ جائے شکلِ حرب وہ تدبیر چاہیےدشمن بھی سب مقر ہوں وہ تقریر چاہیےتیزی زبان میں صورتِ شمشیر چاہیےفولاد کا قلم دمِ تحریر چاہیےنقشہ کھنچے گا صاف صفِ کار زار کاپانی دوات چاہتی ہے ذوالفقار کا
About this couplet
This is couplet 163 of 193 in “جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۶۳ / ۱۹۳