جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
لشکر میں اضطراب تھا فوجوں میں کھلبلیساونت بے حواس ہراسان دھنی بلیڈر تھا کہ لو حسین بڑھے تیغ اب چلیغل تھا ادھر ہیں مرحب و عنتر ادھر علیکون آج سر بلند ہو اور کون پست ہو؟کس کی ظفر ہو دیکھیے کس کی شکست ہو؟
About this couplet
This is couplet 164 of 193 in “جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۶۴ / ۱۹۳