جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
بنتِ علی تو پیٹتی پھرتی تھی ننگے سرکٹتا تھا نورِ چشم علی کا گلا ادھرزینب کو منع کرتے تھے ہر چند اہلِ شرلیکن وہ دوڑی جاتی تھی تھامے ہوئے جگرپہونچی جو قتل گاہ میں اس روک ٹوک پردیکھا سرِ حسین کو نیزے کی نوک پر
About this couplet
This is couplet 187 of 193 in “جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۸۷ / ۱۹۳