جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے

نیزے کے نیچے جا کے پاری وہ سوگوارسید تری لہو بھری صورت کے میں نثارہے ہے گلے پہ چل گئی بھیا چھری کی دھاربھولے بہن کو اے اسدِ حق کے یادگارصدقے گئی لٹا گئے گھر وعدہ گاہ میںجنبش لبوں کو ہے ابھی یاد آلہ میں

About this couplet

This is couplet 188 of 193 in “⁨جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۸۸ / ۱۹۳