جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
تھم کر ہوا چلی فرسِ خوش قدم بڑھاجوں جوں وہ سوئے دشتِ بڑھا اور دم بڑھاگھوڑوں کی لیں سواروں نے باگیں علم بڑھارایت بڑھا کہ سروِ ریاضِ ارم بڑھاپھولوں کو لے کے بادِ بہاری پہونچ گئیبستانِ کربلا میں سواری پہونچ گئی
About this couplet
This is couplet 87 of 193 in “جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۸۷ / ۱۹۳