جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
پنجہ ادھر چمکتا تھا اور آفتاب ادھرآس کی ضیا تھی خاک پہ ضو اس کی عرش پرزر ریزی علم پہ ٹھہرتی نہ تھی نظردولھا کا رخ تھا سونے کے سہرے میں جلوہ گرتھے دو طرف جو دو علم اس ارتقاع کےالجھے ہوئے تھے تار خطوطِ شعاع کے
About this couplet
This is couplet 88 of 193 in “جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۸۸ / ۱۹۳