دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے
شبر سے پھر اشارہ کیا ہو کے بے قرارغصہ نہ کھاؤ پہلے تمہیں کو کریں گے پیارپھر بولے دیکھ کر سوئے شبیر نامدارآ اے حسین آ تری باتوں کے میں نثارچھاتی سے ہم لگائیں گے جان اپنی جان کردیکھیں تو پہلے کون لپٹتا ہے آن کر
About this couplet
This is couplet 24 of 86 in “دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۲۴ / ۸۶