دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے

دوڑے یہ بات سن کے برابر وہ خوش سیرپاس آئے آفتاب رسالت کے دو قمرلپٹے حسین ہنس کے ادھر اور حسن ادھرتھے پانوں زانوؤں پہ تو بالائے دوش سرنانا کے ساتھ پیار میں دونوں کا ساتھ تھاگردن میں ایک ان کا اور ان کا ہاتھ تھا

About this couplet

This is couplet 25 of 86 in “⁨دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۲۵ / ۸۶