دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے
شبیر چاہتے تھے کہ چومیں مرے بھی لبپر کچھ گلے کے بوسوں کا کھلتا نہ تھا سببنانا کے منہ کے پاس یہ لاتے تھے منہ کو جبجھک جھک کے چومتے تھے گلا سید عرببھائی کو دیکھ کر جو حسن مسکراتے تھےغیرت سے ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے تھے
About this couplet
This is couplet 27 of 86 in “دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۲۷ / ۸۶