دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے

اٹھے حسین زانوئے احمد سے خشمگیںغصے سے رنگ زرد اور آنکھوں پہ آستیںرخ پر پسینہ جسم میں رعشہ جبیں پہ چیںپوچھا کدھر چلے تو یہ بولے کہیں نہیںگھر میں اکیلے تیوری چڑھائے چلے گئےدیکھا نہ پھر کے سر کو جھکائے چلے گئے

About this couplet

This is couplet 28 of 86 in “⁨دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۲۸ / ۸۶