دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے

کہنے لگے حسین یہ ماں سے بہ چشم نمکیا جانو تم حسن سے ہمیں چاہتے ہیں کمیہ کیا انہیں پہ لطف و عنایت ہے دم بہ دممعلوم ہو گیا انہیں پیارے نہیں ہیں ہمرو رو کے آج جان ہم اپنی گنوائیں گےپانی نہ اب پئیں گے نہ کھانے کو کھائیں گے

About this couplet

This is couplet 35 of 86 in “⁨دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۵ / ۸۶