دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے

یہ بات سن کے ہو گیا زہرا کا رنگ فقبولی پسر سے رو کے وہ بنت رسول حقصدقے گئی کرو نہ کلیجے کو میرے شقہے ہے یہ کیا کہا مجھے ہوتا ہے اب قلقمیرا لہو بہے گا جو آنسو بہاؤ گےکاہے کو ماں جیے گی جو کھانا نہ کھاؤگے

About this couplet

This is couplet 36 of 86 in “⁨دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۶ / ۸۶