دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے
ہاتھوں کو جوڑتی ہوں میں یا شاہ بحر و برشفقت کی اس کے حال پہ ہر دم رہے نظررونے سے اس کے ہوتا ہے ٹکڑے مرا جگرمجھ فاقہ کش غریب کا پیارا ہے یہ پسرحیدر سے پوچھیے مرے عسرت کے حال کوکس کس دکھوں سے پالا ہے اس نونہال کو
About this couplet
This is couplet 41 of 86 in “دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۴۱ / ۸۶