دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے
اشک اس کے جتنے ٹپکے ہیں یا شاہ نیک خواتنا ہی گھٹ گیا ہے مرے جسم کا لہوروئے ہیں پھوٹ پھوٹ کے یہ میرے رو بہ روتر ہو گیا ہے آنسوؤں سے چاند سا گلودیکھا نہ تھا یہ میں نے جو حال اس کا آج ہےحضرت تو جانتے ہیں کہ نازک مزاج ہے
About this couplet
This is couplet 42 of 86 in “دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۴۲ / ۸۶