دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے

کس جرم پر یہ لال مرے قتل ہوں گے آہرو کر کہا رسول خدا نے کہ بے گناہکی عرض فاطمہ نے کہ اے عرش بارگاہبچوں کو میرے کیا نہ ملے گی کہیں پناہتلواریں کھینچ کھینچ کے ظالم جو آئیں گےحضرت نہ کیا نواسوں کو اپنے بچائیں گے

About this couplet

This is couplet 55 of 86 in “⁨دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۵۵ / ۸۶