دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے
آساں ہے کیا جو قتل کریں گے ستم شعارکیا شیر حق کمر سے نہ کھینچیں گے ذو الفقاراعدا پہ کیا چلے گا نہ دست خدا کا واربالوں کو کیا نہ کھولے گی زہرا جگر فگارٹکڑے جگر جو ہوئے گا مجھ دل دو نیم کاپایہ نہ کیا ہلاؤں گی عرش عظیم کا
About this couplet
This is couplet 56 of 86 in “دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۵۶ / ۸۶