دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے

زہرا سے رو کے کہنے لگے شاہ نیک خوبیٹی مجھے ستائیں گے تربت میں کینہ جواس وقت قتل ہوئیں گے یہ دونوں ماہ رودنیا میں جب نہ ہوگا علی اور نہ میں نہ تولاشے پہ مجتبیٰ کے تو شبیر روئے گاشبیر جب مرے گا تو کوئی نہ ہوئے گا

About this couplet

This is couplet 57 of 86 in “⁨دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۵۷ / ۸۶