دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے

بچپن میں جو زباں سے کہا تھا کیا وہ کامجس وقت رن میں ٹوٹ پڑے شہ پہ فوج شامگردن جھکا کے برچھیاں کھایا کیے امامخوں میں قبا رسول کی تر ہو گئی تمامتیغیں علی کے لال کے شانے پہ چل گئیںچھاتی کے پار نیزوں کی نوکیں نکل گئیں

About this couplet

This is couplet 69 of 86 in “⁨دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۶۹ / ۸۶