دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے
پھیری نہ تھی جو پشت مبارک دم مصافتھے دو ہزار زخم فقط سر سے تا بہ نافسید سے بے وطن سے زمانہ تھا بر خلافغل تھا کہ آج ہوتا ہے گھر فاطمہ کا صافسنبھلا نہ جائے گا خلف بو تراب سےلو وہ قدم حسین کے نکلے رکاب سے
About this couplet
This is couplet 70 of 86 in “دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۷۰ / ۸۶