دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے

تر تھی لہو میں زلف شکن در شکن جدامجروح لعل لب تھے جدا اور دہن جدادرپئے تھے نیزہ دار جدا تیغ زن جداکٹ کٹ کے ہو گیا تھا ہر اک عضو تن جداسی پارہ تھا نہ صدر فقط اس جناب کاپرزے ورق ورق تھا خدا کی کتاب کا

About this couplet

This is couplet 72 of 86 in “⁨دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۷۲ / ۸۶