دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے
کرتا تھا وار برچھیوں والوں کا جب پراتیغوں سے دم بھی لینے کی مہلت نہ تھی ذرانیزوں میں خوں نبی کے نواسے کا تھا بھراشمشیر و تیر نیزہ و خنجر کے ماوراتھیں سختیاں ستم کی شہ خوش خصال پرچلتے تھے سنگ فاطمہ زہرا کے لال پر
About this couplet
This is couplet 73 of 86 in “دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۷۳ / ۸۶