دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے

تھے دو ہزار جسم شۂ بحر و بر پہ زخمماتھے پہ زخم تیر کے تیغوں کے سر پہ زخمگردن پہ زخم سینہ پہ زخم اور کمر پہ زخماور اس کے ماورا تھے بہتر جگر پہ زخمگھوڑے پہ گہہ سنبھلتے تھے گہہ ڈگمگاتے تھےغش آتا تھا تو ہرنے پہ سر کو جھکاتے تھے

About this couplet

This is couplet 74 of 86 in “⁨دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۷۴ / ۸۶