دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے

بانو پکارتی تھی یہ کیا کرتا ہے لعیںپیاسا ہے تین روز سے حیدر کا جا نشیںچلاتی تھی سکینہ کہ جینے کی میں نہیںبابا کو ذبح کرتا ہے کیوں اے عدوئے دیںخنجر نہ پھیر چاند سی گردن پہ رحم کرابا کو چھوڑ دے مرے بچپن پہ رحم کر

About this couplet

This is couplet 82 of 86 in “⁨دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۸۲ / ۸۶