دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے
زخموں سے چور چور ہے زہرا کا یادگارجس چھاتی پر میں سوتی تھی اس پر ہے تو سواربابا کے حلق پر نہ پھرا اب چھری کی دھاربدلے پدر کے سر کو مرے تن سے تو اتارسید پہ تشنہ لب پہ ستم اس قدر نہ کرپوتی ہوں فاطمہ کی مجھے بے پدر نہ کر
About this couplet
This is couplet 83 of 86 in “دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۸۳ / ۸۶