دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے
رو کر بیاں یہ کرتی تھی وہ سوختہ جگردے کر دہائی اہل حرم پیٹتے تھے سرکرتا تھا ذبح شہ کو وہاں شمر بد گہرفرماتے تھے یہ شاہ کہ پیاسا ہوں رحم کرپانی دیا نہ ہائے نبی کے نواسے کوجلاد ذبح کرنے لگا بھوکے پیاسے کو
About this couplet
This is couplet 84 of 86 in “دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۸۴ / ۸۶