بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ
کیں صفیں صاف، مگر منہ کی صفائی نہ گئیکج ادائی کو نہ چھوڑا، وہ لڑائی نہ گئیکاٹ چھانٹ اور وہ لگاوٹ وہ رُکھائی نہ گئیسیکڑوں خون کئے اور کہیں آئی نہ گئیشور تھا برق، پئے جلوہ گری نکلی ہےجان لینے کو اجل بن کے پری نکلی ہے
About this couplet
This is couplet 102 of 136 in “بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۰۲ / ۱۳۶