بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ
جس طرف دیدۂ جوہر سے نظر کرتی ہےپل نہ گذرے کہ صفیں، زیر و زبر کرتی ہےچشم ہر چند کہ پتلی کو، سپر کرتی ہےہے وہ طرار، کہ آنکھوں میں یہ گھر کرتی ہےاس کے افسوں سے جو ساحر ہو تو جل جاتا ہےسحر پریوں کا اسی طرح سے چل جاتا ہے
About this couplet
This is couplet 103 of 136 in “بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۰۳ / ۱۳۶