بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ

کثرتِ جوہرِ ذاتی سے گو وہ جال میں تھیپر تڑپ صورتِ ماہی وہی ہر حال میں تھیتھی چمک جانے میں بجلی، تو پری چال میں تھیکبھی مغفر میں، کبھی سر میں، کبھی ڈھال میں تھیکہیں دم لینے کی مہلت تھی نہ بسمل کے لئےتھی جگر کے لئے برچھی تو چھری دل کے لئے

About this couplet

This is couplet 109 of 136 in “⁨بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۰۹ / ۱۳۶