بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ
صید کرنے کو جدھر صورتِ شہباز آئیلاکھ تڑپا پہ نہ بے جان لئے باز آئیغل ہوا شہپرِ شاہیں کے تلے، قاز آئیاڑ گیا طائرِ جاں اور نہ آواز آئیگرچہ قبضے میں لئے تھی اسے پر چھوڑ دیاتھا زبس صیدِ زبوں، کاٹ کے سر چھوڑ دیا
About this couplet
This is couplet 110 of 136 in “بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۱۰ / ۱۳۶