بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ

آب نے آتش سوزاں کا اثر دکھلایاتاب نے مرگ مفاجات کا گھر، دکھلایاباڑھ نے جادۂ صحرائے سقر، دکھلایاکھاٹ نے آئینۂِ فتح و ظفر دکھلایاتیغ کہتی تھی در فتح کی مفتاح ہوں میںقول قبضے کا یہ تھا قابضِ ارواح ہوں میں

About this couplet

This is couplet 111 of 136 in “⁨بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۱۱ / ۱۳۶