بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ

شور تھا آگ ہے تلوار میں یا پانی ہےجل بجھی کشتیٔ تن خون میں طوفانی ہےضرب میں فرد ہے یہ زور میں لاثانی ہےکہتا تھا حُرؔ یہ فقط قوتِ ایمانی ہےزور تھا مجھ میں نہ ایسا، نہ وغا کی طاقتسب ہے یہ سبطِ پیمبر کی دعا کی طاقت

About this couplet

This is couplet 116 of 136 in “⁨بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۱۶ / ۱۳۶