بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ

کہہ کے یہ فوج میں پھر تشنہ جگر ڈوب گیاورطۂ قلزم آفت میں گہر ڈوب گیالشکرِ شام کے بادل میں قمر ڈوب گیاکشمکش تھی کہ عرق میں گلِ تر ڈوب گیاتھا کبھی شیر سا بپھرا ہوا شمشیروں میںکبھی نیزوں کے نیستاں میں کبھی تیروں میں

About this couplet

This is couplet 117 of 136 in “⁨بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۱۷ / ۱۳۶