بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ

نخل تھراتے تھے سب گونج رہا تھا جنگلسرکی جاتی تھی زمیں رن کی غضب تھی ہل چلکوند جاتی تھی، سروں پر جو وہ شمشیر اجلمنہ کے بل گرتا تھا کوئی تو کوئی سر کے بلحشر برپا تھا سواروں پہ فرس لوٹتے تھےدو پہ چار، ایک پہ دو، پانچ پہ دس لوٹتے تھے

About this couplet

This is couplet 119 of 136 in “⁨بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۱۹ / ۱۳۶