بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ
گہ چھپا اور کبھی نکلا وہ مہ برج شرفکبھی اس صف میں در آیا کبھی روندی وہ صفکبھی دریا کے کنارے کبھی صحرا کی طرفکبھی نعرہ تھا کہ صدقے ترے یا شاہِ نجفجتنے مجروح تھے دم ان کے نکل جاتے تھےشیر بھی نامِ علی سن کے دہل جاتے تھے
About this couplet
This is couplet 118 of 136 in “بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۱۸ / ۱۳۶