بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ

مجھ کو ہوتا نہ اگر بخششِ امت کا خیالروک لیتا مجھے رستہ میں، یہ حر کی تھی مجالتھام سکتا تھا، لجامِ فرسِ برق مثالپوچھ لو دیکھا ہے اس نے، مرے شیروں کا جلالگفتگو میں سپر اس کی جو نہ ہم، ہو جاتےہاتھ اِک وار میں، پہونچوں سے قلم ہو جاتے

About this couplet

This is couplet 21 of 136 in “⁨بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۲۱ / ۱۳۶