بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ
غیظ سے ہاتھ چباتے تھے علیؔ کے دلدارنیمچے تولتے تھے عون و محمد ہر باراگلی پڑتی تھی جگر بند حسنؔ کی تلوارمیں نے جب سر کی قسم دی تو رکے وہ جرارچلتی تلوار تو جنگل تہ و بالا ہوتاپھر نہ حُرؔ خلق میں ہوتا نہ رسالہ ہوتا
About this couplet
This is couplet 22 of 136 in “بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۲۲ / ۱۳۶