بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ
تھا یہ بپھرا ہوا عباسؔ مرا شیر جواںسینۂ حُرؔ پہ رکھے دیتا تھا، نیزے کی سناںمیں یہ کرتا تھا اشارہ کہ، نہ اے بھائی جاںرحم لازم ہے ہمیں، ہم ہیں امامِ دو جہاںکچھ تردد نہیں، سر تن سے اتارا جائےکوئی بندہ نہ مرے ہاتھ سے مارا جائے
About this couplet
This is couplet 23 of 136 in “بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۲۳ / ۱۳۶