بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ

تھی یہی فصل یہی دھوپ یہی گرم ہواٹھنڈے پانی پہ گرے پڑتے تھے، حُرؔ کے رفقاتشنہ کاموں کا یہ مجمع تھا کہ ملتی نہ تھی جاسقے بھر بھر کے کٹوروں کو یہ دیتے تھے صدابھائیو آؤ، جو پانی کی طلب گاری ہےچشمۂ فیضِ حسینؔ ابنِ علیؔ جاری ہے

About this couplet

This is couplet 27 of 136 in “⁨بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۲۷ / ۱۳۶