بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ

آبِ شیریں کا جو دریا ہوا جنگل میں رواںفرس و اشتر، و قاطر نہ رہے تشنہ دہاںشکر کرنے لگے تر ہو گئی، ہر خشک زباںپانی پی پی کے دعائیں مجھے دیتے تھے جواںشور تھا ابنِ یداللہ نے جاں بخشی کیدین و دنیا کے شہنشاہ نے جاں بخشی کی

About this couplet

This is couplet 28 of 136 in “⁨بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۲۸ / ۱۳۶