بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ
کس کے کیوں باندھا ہے ہاتھوں کو میں ہوتا ہوں خجلسہل کر دیں اسے گر اور کوئی ہو مشکلبھائی آ، مجھ سے بغل گیر تو ہو، کھول کے دلغافر و راحم و تواب ہے ربِ عادلجرم سب محو کئے حق نے ترے دفتر سےآج پیدا ہوا گویا شکمِ مادر سے
About this couplet
This is couplet 74 of 136 in “بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۷۴ / ۱۳۶